القائد المجاھد شھید الاقصی يحي السنوار نور اللہ مرقدہ
حذیفہ وستانوی
اس دنیائے فانی میں حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی اور کشمکش سنت اللہ ہے یہاں دو گروہ برسرپیکار ہے ایک راہ حق کے سرفروش اور دوسری طاغوت باطل اور شیطانی شرذمة اصل اور دائمی کامیابی راہ حق کے خاطر جان مال عزت اولاد کی قربانی میں ہے اور دائمی ناکامی طاغوت کے لیے استعمال ہونے میں ہے _
ایکسویں صدی مادی ترقی کی صدی ہے دنیا ظاہری چمک دمک کے پیچھے انسان لپکتا چلا جارہا ہے نہ اسے اپنے ایمان کی پڑی ہے نہ اپنے دین کی اسے بس مال عزت شہرت منصب کی لالچ اور ہوس ہے نفاق کا گویا دور دورہ ہے دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو حق کا بول بالا کرنے کے لیے کوشاں افراد اور جماعت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان پر طرح طرح کے بہتان لگاتا ہے ایسے زمانہ میں اگر کوئی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مردانہ وار میدان میں آخری سانس تک مقابلہ کرتے ہوے اپنی قیمتی جان جہاں آفری کے سپرد کردے اور کسی صورت باطل کے سامنے نہ جھکے تو یہ عزت والی موت ہے سیدنا حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جب بیدردی سے شہید کیا جارہا تھا تو آپ نے ایک قصیدہ کہا تھا اس صدی کا سب سے عظیم مجاہد جس نے طوفان الأقصى برپا کرکے اسرائیل اور اس کی ہم نوا تمام ہتھیاروں اور جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس طاقتوں کو ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ ہوا غزہ العزہ جیسے چھوٹے سے بقعہ ارض پر سالوں سے حصار کے باوجود لوہے کے چنے چبوائے اور خود میدان کارزار میں اتر کر جواں مردی کے جوہر دکھاکر شہادت سے سرفراز ہوگئے حضرت خبیب کا وہ قصیدہ القائد المجاھد الشہید الشيخ یحی السنوار پر فٹ ہوتا ہے اس كا ایک شعر جو ہر مؤمن مجاہد کے پیش نظر ہونا چاہیے
فلستُ أُبالي حِينَ أُقتَلُ مُسلِماً .. على أيِّ جَنْبٍ كانَ في اللهِ مَصرَعي
ترجمہ
اسلام کی حالت اگر مجھے موت آئے تو مجھے کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں
اللہ کے راستے میں جس طرح بھی مجھے قتل کیا جائے منظور ہے
ایک اور شعر
وذلكَ في ذاتِ الإلهِ وإنْ يَشَأْ ... يُبارِكْ على أوصالِ شِلْو مُمَزَّعِ
اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا
پورا قصیدہ بھی عربی ذوق رکھنے والے کے لیے اور ایمان کی حرارت کے خواہاں کے لیے بہت موثر ہے
لقد جَمّعَ الأحزابُ حَولِي وألّبوا ... قبائلَهُمْ واستَجْمَعُوا كُلَّ مَجمَعِ
وكلُّهُمُ مُبدي العداوةِ جاهِدٌ ... عليَّ لأنّي في وَثاقي بِمَضْيَعِ
وقد جمَّعوا أبناءَهُمْ ونِساءَهُمْ ... وقُرِّبْتُ مِنْ جِذْعٍ طَويلٍ مُمَنَّعِ
إلى اللهِ أشْكُو غُرْبَتي ثُمَّ كُرْبَتي ... وما أرصدَ الأحزابُ لي عندَ مَصرعَي
فَذَا العرشِ صَبِّرْني على ما يُرادُ بِي ... فقد بضّعوا لَحْمي وقدْ يَاسَ مَطْمَعي
وذلكَ في ذاتِ الإلهِ وإنْ يَشَأْ ... يُبارِكْ على أوصالِ شِلْو مُمَزَّعِ
وقد خَيَّرُوني الكُفرَ والموتَ دُونَه ... وقدْ هَمَلَتْ عَيْنايَ من غَيرِ مَجزَعِ
وما بي حَذارُ الموتِ، إني لميّتٌ ... ولكنْ حَذاري جُحْمُ نارٍ مُلَفَّعِ
فلستُ أُبالي حِينَ أُقتَلُ مُسلِماً .. على أيِّ جَنْبٍ كانَ في اللهِ مَصرَعي
ولستُ بمبدٍ للعدو تخشُّعاً ... ولا جزَعَاً، إنّي إلى الله مَرجِعي
حماس کے یہ وہ قائد ہے جو لڑتے ہوے شہید ہوے خود وہ یہ کہا کرتے تھے کہ بستر اور حادثات کی موت سے بہتر تو وہ موت ہے جو میدان کارزار میں آئے بزدلوں کی طرح بستر پر مر کر کیا فائدہ!!! آپ نے جہاں حضرت خبیب کی یاد تازہ کردی وہیں حضرت انس بن نضر کی بھی یاد تازہ کردی سورۃ الاحزاب میں ارشاد خداوندی ہے
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا(23)
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے اور وہ بالکل نہ بدلے۔
حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر کے موقع پر موجود نہ تھے، یہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیـ: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی جنگ لڑی تھی میں ا س میں موجود نہ تھا،اگر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جنگ آزمائی کا پھر موقع دیا تواللہ تعالیٰ آپ کو ضرور دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔جب اُحد کی معرکہ آرائی کا دن آیا اور بعض مسلمان جنگ کے میدان میں ٹھہر نہ سکے، توانہوں نےاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور عرض کی: یا اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں اُس حرکت سے علیحدگی کا اظہار کرتا ہوں جو ہمارے بعض ساتھیوں سے سرزد ہوئی اور میں اُس فعل سے بیزار ہوں جس کے یہ مشرکین مُرتکب ہوئے ہیں ۔پھر انہوں نے مشرکین کی جانب پیش قدمی فرمائی تو راستے میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے فرمایا: اے سعد بن معاذ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ، نضر کے رب عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے اُحد کی اس جانب سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں ان کا حال یوں عرض کیا کرتے تھے کہ یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو جوانمردی حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دکھائی وہ میری بساط سے باہر ہے۔حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب (جنگ کے بعد) ہم نے حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جامِ شہادت نوش کئے ہوئے پایا تو ان کے جسم پر 80سے زیادہ تلواروں ،تیروں اور نیزوں کے زخم تھے۔ مشرکین نے ان کے کان اور ناک وغیرہ کاٹ لئے تھے جس کے باعث انہیں کوئی پہچان نہ سکا البتہ صرف ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہمارا خیال اور گمان ہے کہ یہ آیت ’’مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ‘‘ ان کے بارے میں اور ان جیسے حضرات ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔( بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللّٰہ تعالی: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۵، الحدیث: ۲۸۰۵)
اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُحد سے واپس تشریف لائے تو حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پا س سے گزرے جوکہ شہید ہو کر راستے میں پڑے ہوئے تھے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے پاس کھڑے ہو کر دعا فرمائی اور ا س کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:
’’مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا‘‘(احزاب:۲۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہےاور وہ بالکل نہ بدلے۔
پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں گواہی دیتا ہو ں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید ہیں ،تو تم ان کے پاس آیا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا یہ ا س کے سلام کا جواب دیں گے۔( مستدرک، کتاب التفسیر، زیارۃ قبور الشہداء وردّ السلام منہم الی یوم القیامۃ، ۲ / ۶۲۹، الحدیث: ۳۰۳۱)
حضرت عثمانِ غنی، حضرت طلحہ، حضرت سعید بن زید، حضرت حمزہ اور حضرت مصعب اوردیگر چندصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے نذر مانی تھی کہ وہ جب رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد میں شرکت کا موقع پائیں گے تو ثابت قدم رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ۔ ان کے بارے میں اس آیت میں ارشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اور ان میں سے کوئی ثابت قدمی کے ساتھ جہاد کرتا رہایہاں تک کہ شہید ہو گیا جیسے کہ حضرت حمزہ اور حضرت مصعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور کوئی ابھی (جہاد پر ثابت قدمی کے باوجود) شہادت کا انتظار کر رہا ہے، جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا، اور یہ حضرات بالکل نہ بدلے بلکہ شہید ہو جانے والے بھی اور شہادت کا انتظار کرنے والے بھی دونوں اپنے عہد پر ویسے ہی ثابت قدم رہے جبکہ منافق اور دل کے بیمار لوگ اپنے عہد پر قائم نہ رہے۔( مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۹۳۷-۹۳۸)
گویا عزیمت کا یہ راہی صحابہ کی اسی جماعت کا فرد نکلا جس نے اپنا سب کچھ راہ خدا میں خرچ کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگی اور اپنی ساری صلاحیتوں کو صرف اور صرف بیت المقدس اور مسجد اقصی کے لیے نچھاور کردیا اس میں کوئی شک نہیں کے آج امت مسلمہ نے ایک عظیم جری بہادر جانباز مخلص قائد اور مجاہد کو کھو دیا جس پر پوری امت سوگوار ہے آنکھیں اشکبار ہے دل غم سے نڈھال ہے مگر ہم اپنے خالق و مالک رب ذوالجلال کے فیصلے پر راضی ہیں اللہ ابو ابراہیم کی شہادت کو قبول فرمائے انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطاء فرمائے اور عنقریب ان شاءاللہ مظلوموں اور مجاہدوں کا خون رنگ لائے گا اور رائگاں نہیں جائے گا اور بیت المقدس کی آزادی جلد مقدر فرمائے گا ان شاءاللہ

0 Comments